EN हिंदी
اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم تو | شیح شیری
uTh gae yan se apne hamdam to

غزل

اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم تو

جوشش عظیم آبادی

;

اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم تو
ہاتھ ملتے ہی رہ گئے ہم تو

یار آیا ہے دیکھ لوں اس کو
اے اجل دم لے تو کوئی دم تو

مونس تازہ ہیں یہ درد و الم
مدتوں کا رفیق ہے غم تو

اپنا عاشق نہ جان تو مجھ کو
اس کو جانے ہے ایک عالم تو

بے حلاوت نہیں خط لب یار
فی الحقیقت شکر ہے یہ سم تو

دل بھی بہہ جائے گا ترے ہم راہ
کاروان سرشک ٹک تھم تو

کیوں رکھوں داغ دل پر اے ؔجوشش
داغ کو بہہ کرے ہے مرہم تو