EN हिंदी
نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیں | شیح شیری
nala-e-dil ki to kotahi nahin

غزل

نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیں

جوشش عظیم آبادی

;

نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیں
پر اثر کچھ اس کو ہوتا ہی نہیں

کتنا وہ قاتل ہے بے خوف و خطر
تیغ خوں آلودہ دھوتا ہی نہیں

اس گلی میں جس طرح روتا ہوں میں
اس طرح تو کوئی روتا ہی نہیں

خار زار عشق کو کیا ہو گیا
پاؤں میں کانٹے چبھوتا ہی نہیں

ترک کی لذت سے واقف کون ہیں
گر نہ ہوتا جان کھوتا ہی نہیں

جانتا گر دل ہے مزرع یاس کا
تخم امید اس میں بوتا ہی نہیں

جوں سخن آتا ہے سلک نظم میں
یوں کوئی موتی پروتا ہی نہیں

خواب میں ؔجوشش وہ آئے کس طرح
عاشق بے تاب سوتا ہی نہیں