سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے
اور جگرؔ کو شراب نے مارا
جگر مراد آبادی
صبا یہ ان سے ہمارا پیام کہہ دینا
گئے ہو جب سے یہاں صبح و شام ہی نہ ہوئی
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سبھی انداز حسن پیارے ہیں
ہم مگر سادگی کے مارے ہیں
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
جگر مراد آبادی
صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| خوش آمدید |
| 2 لائنیں شیری |
تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں
اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| تصویر |
| 2 لائنیں شیری |
تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں
ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا
جگر مراد آبادی

