مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے
مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
جگر مراد آبادی
محبت میں ہم تو جیے ہیں جییں گے
وہ ہوں گے کوئی اور مر جانے والے
جگر مراد آبادی
محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
جگر مراد آبادی
محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
کہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیں
جگر مراد آبادی
محبت، صلح بھی پیکار بھی ہے
یہ شاخ گل بھی ہے تلوار بھی ہے
جگر مراد آبادی
مجھے دے رہے ہیں تسلیاں وہ ہر ایک تازہ پیام سے
کبھی آ کے منظر عام پر کبھی ہٹ کے منظر عام سے
جگر مراد آبادی
مجھی میں رہے مجھ سے مستور ہو کر
بہت پاس نکلے بہت دور ہو کر
جگر مراد آبادی

