EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے
ترے ذکر سے تری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے

جگر مراد آبادی




نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
ہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں

جگر مراد آبادی




پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب
کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی




پھول کھلے ہیں گلشن گلشن
لیکن اپنا اپنا دامن

جگر مراد آبادی




راحت بے خلش اگر مل بھی گئی تو کیا مزا
تلخئ غم بھی چاہئے بادۂ خوش گوار میں

جگر مراد آبادی




ساز الفت چھڑ رہا ہے آنسوؤں کے ساز پر
مسکرائے ہم تو ان کو بد گمانی ہو گئی

جگر مراد آبادی




سب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکن
اک تری یاد تھی ایسی جو بھلائی نہ گئی

جگر مراد آبادی