EN हिंदी
وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے | شیح شیری
wo Dhal raha hai to ye bhi rangat badal rahi hai

غزل

وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے

جاوید اختر

;

وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے
زمین سورج کی انگلیوں سے پھسل رہی ہے

جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں وہ بے خبر ہیں
کہ میری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے

میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن
مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے

نہ جلنے پاتے تھے جس کے چولھے بھی ہر سویرے
سنا ہے کل رات سے وہ بستی بھی جل رہی ہے

میں جانتا ہوں کہ خامشی میں ہی مصلحت ہے
مگر یہی مصلحت مرے دل کو کھل رہی ہے

کبھی تو انسان زندگی کی کرے گا عزت
یہ ایک امید آج بھی دل میں پل رہی ہے