EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خرچ چلے گا اب مرا کس کے حساب میں بھلا
سب کے لئے بہت ہوں میں اپنے لئے ذرا نہیں

جون ایلیا




خدا سے لے لیا جنت کا وعدہ
یہ زاہد تو بڑے ہی گھاگ نکلے

جون ایلیا




خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا تو بھی

جون ایلیا




کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوب صورت ہو

جون ایلیا




کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے

جون ایلیا




کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

جون ایلیا




کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم

جون ایلیا