EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شام ہو یا کہ سحر یاد انہیں کی رکھنی
دن ہو یا رات ہمیں ذکر انہیں کا کرنا

حسرتؔ موہانی




شعر دراصل ہیں وہی حسرتؔ
سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں

حسرتؔ موہانی




شعر میرے بھی ہیں پر درد ولیکن حسرتؔ
میرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں

حسرتؔ موہانی




شکوۂ غم ترے حضور کیا
ہم نے بے شک بڑا قصور کیا

حسرتؔ موہانی




تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی
اک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی

حسرتؔ موہانی




تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا

حسرتؔ موہانی




توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے

حسرتؔ موہانی