اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گی
یہ دور اشارات و کنایات نہیں ہے
حفیظ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پسندوں کے
ابھی میں بزم میں آیا ابھی بولا کہاں بولا
حفیظ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بد تر ہے موت سے بھی غلامی کی زندگی
مر جائیو مگر یہ گوارا نہ کیجیو
حفیظ میرٹھی
ٹیگز:
| مشھورا |
| 2 لائنیں شیری |
ہائے وہ نغمہ جس کا مغنی
گاتا جائے روتا جائے
حفیظ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہر سہارا بے عمل کے واسطے بیکار ہے
آنکھ ہی کھولے نہ جب کوئی اجالا کیا کرے
حفیظ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھ
لو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھی
حفیظ میرٹھی
ٹیگز:
| نیا سال |
| 2 لائنیں شیری |
کبھی کبھی ہمیں دنیا حسین لگتی تھی
کبھی کبھی تری آنکھوں میں پیار دیکھتے تھے
حفیظ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

