EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تمثیل و استعارا و تشبیہ سب درست
اس کی مثال کیا جو عدیم المثال ہو

حفیظ جونپوری




تندرستی سے تو بہتر تھی مری بیماری
وہ کبھی پوچھ تو لیتے تھے کہ حال اچھا ہے

حفیظ جونپوری




تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والے
مے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کا

حفیظ جونپوری




ان کی یکتائی کا دعویٰ مٹ گیا
آئنے نے دوسرا پیدا کیا

حفیظ جونپوری




یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیں
روئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سے

حفیظ جونپوری




زاہد کو رٹ لگی ہے شراب طہور کی
آیا ہے میکدے میں تو سوجھی ہے دور کی

حفیظ جونپوری




زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہور
پینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیا

حفیظ جونپوری