EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کعبہ کے ڈھانے والے وہ اور لوگ ہوں گے
ہم کفر جانتے ہیں دل توڑنا کسی کا

حفیظ جونپوری




کافر عشق کو کیا دیر و حرم سے مطلب
جس طرف تو ہے ادھر ہی ہمیں سجدا کرنا

حفیظ جونپوری




کبھی مسجد میں جو واعظ کا بیاں سنتا ہوں
یاد آتی ہے مجھے پیر خرابات کی بات

حفیظ جونپوری




لٹ گیا وہ ترے کوچے میں دھرا جس نے قدم
اس طرح کی بھی کہیں راہزنی ہوتی ہے

حفیظ جونپوری




مرے بت خانے سے ہو کر چلا جا کعبے کو زاہد
بظاہر فرق ہے باطن میں دونوں ایک رستے ہیں

حفیظ جونپوری




مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ
نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل

حفیظ جونپوری




او آنکھ بدل کے جانے والے
کچھ دھیان کسی کی عاجزی کا

حفیظ جونپوری