EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمیں یاد رکھنا ہمیں یاد کرنا
اگر کوئی تازہ ستم یاد آئے

حفیظ جونپوری




حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی
نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی

حفیظ جونپوری




اس کو سمجھو نہ خط نفس حفیظؔ
اور ہی کچھ ہے شاعری سے غرض

حفیظ جونپوری




جب ملا کوئی حسیں جان پر آفت آئی
سو جگہ عہد جوانی میں طبیعت آئی

حفیظ جونپوری




جب نہ تھا ضبط تو کیوں آئے عیادت کے لیے
تم نے کاہے کو مرا حال پریشاں دیکھا

حفیظ جونپوری




جو دیوانوں نے پیمائش کی ہے میدان قیامت کی
فقط دو گز زمیں ٹھہری وہ میرے دشت وحشت کی

حفیظ جونپوری




جو کعبے سے نکلے جگہ دیر میں کی
ملے ان بتوں کو مکاں کیسے کیسے

حفیظ جونپوری