EN हिंदी
یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی بات | شیح شیری
yaad hai pahle-pahal ki wo mulaqat ki baat

غزل

یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی بات

حفیظ جونپوری

;

یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی بات
وہ مزے دن کے نہ بھولے ہیں نہ وہ رات کی بات

کبھی مسجد میں جو واعظ کا بیاں سنتا ہوں
یاد آتی ہے مجھے پیر خرابات کی بات

یاد پیری میں کہاں اب وہ جوانی کی ترنگ
صبح ہوتے ہی ہمیں بھول گئی رات کی بات

شیخ جی مجمع رنداں میں نصیحت کیسی
کون سنتا ہے یہاں قبلۂ حاجات کی بات

ہائے پھر چھیڑ دیا ذکر عدو کا تم نے
پھر نکالی نہ وہی ترک ملاقات کی بات

جب لیا عہد شب وصل کہا اس نے حفیظؔ
صبح کو یاد رہے گی یہ ہمیں رات کی بات