EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ بات حفیظؔ اب نہیں ملتی کسی شے میں
جلووں میں کمی ہے کہ نگاہوں میں کمی ہے

حفیظ بنارسی




یہ کس مقام پہ لائی ہے زندگی ہم کو
ہنسی لبوں پہ ہے سینے میں غم کا دفتر ہے

حفیظ بنارسی




اب یہی میرے مشاغل رہ گئے
سوچنا اور جانب در دیکھنا

حفیظ ہوشیارپوری




دل میں اک شور سا اٹھا تھا کبھی
پھر یہ ہنگامہ عمر بھر ہی رہا

حفیظ ہوشیارپوری




دل سے آتی ہے بات لب پہ حفیظؔ
بات دل میں کہاں سے آتی ہے

حفیظ ہوشیارپوری




دنیا میں ہیں کام بہت
مجھ کو اتنا یاد نہ آ

حفیظ ہوشیارپوری




غم زمانہ تری ظلمتیں ہی کیا کم تھیں
کہ بڑھ چلے ہیں اب ان گیسوؤں کے بھی سائے

حفیظ ہوشیارپوری