EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پھول افسردہ بلبلیں خاموش
فصل گل آئی ہے خزاں بر دوش

حفیظ بنارسی




سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا
اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا

حفیظ بنارسی




سمجھ کے آگ لگانا ہمارے گھر میں تم
ہمارے گھر کے برابر تمہارا بھی گھر ہے

حفیظ بنارسی




تدبیر کے دست رنگیں سے تقدیر درخشاں ہوتی ہے
قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں ہوتی ہے

حفیظ بنارسی




اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میں
میرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیا

حفیظ بنارسی




اس سے بڑھ کر کیا ملے گا اور انعام جنوں
اب تو وہ بھی کہہ رہے ہیں اپنا دیوانہ مجھے

حفیظ بنارسی




وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میں
وفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیں

حفیظ بنارسی