میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے
زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے
حبیب موسوی
محتسب تو نے کیا گر جام صہبا پاش پاش
جبہ و عمامہ ہم کر دیں گے سارا پاش پاش
حبیب موسوی
ناصح یہ وعظ و پند ہے بے کار جائے گا
ہم سے بھی بادہ کش ہیں کہیں پارسا ہوئے
حبیب موسوی
پلا ساقی مئے گل رنگ پھر کالی گھٹا آئی
چھپانے کو گنہ مستوں کے کعبہ کی ردا آئی
حبیب موسوی
قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیں
ناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئے
حبیب موسوی
رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخ
ایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میں
حبیب موسوی
شب فرقت ہے ٹھہرتے نہیں شعلے دل میں
تارہ ٹوٹا کہ مری آنکھ سے آنسو ٹوٹا
حبیب موسوی

