شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرم
غنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہے
حبیب موسوی
طالب بوسہ ہوں میں قاصد وہ ہیں خواہان جان
یہ ذرا سی بات ہے ملتے ہی طے ہو جائے گی
حبیب موسوی
تیرا کوچہ ہے وہ اے بت کہ ہزاروں زاہد
ڈال کے سبحہ میں یاں رشتۂ زنار چلے
حبیب موسوی
تیزیٔ بادہ کجا تلخیٔ گفتار کجا
کند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ
حبیب موسوی
تھوڑی تھوڑی راہ میں پی لیں گے گر کم ہے تو کیا
دور ہے مے خانہ یہ زاد سفر شیشہ میں ہے
حبیب موسوی
تیرہ بختی کی بلا سے یوں نکلنا چاہیے
جس طرح سلجھا کے زلفوں کو الگ شانہ ہوا
حبیب موسوی
یہ ثابت ہے کہ مطلق کا تعین ہو نہیں سکتا
وہ سالک ہی نہیں جو چل کے تا دیر و حرم ٹھہرے
حبیب موسوی

