EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرم
غنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہے

حبیب موسوی




طالب بوسہ ہوں میں قاصد وہ ہیں خواہان جان
یہ ذرا سی بات ہے ملتے ہی طے ہو جائے گی

حبیب موسوی




تیرا کوچہ ہے وہ اے بت کہ ہزاروں زاہد
ڈال کے سبحہ میں یاں رشتۂ زنار چلے

حبیب موسوی




تیزیٔ بادہ کجا تلخیٔ گفتار کجا
کند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ

حبیب موسوی




تھوڑی تھوڑی راہ میں پی لیں گے گر کم ہے تو کیا
دور ہے مے خانہ یہ زاد سفر شیشہ میں ہے

حبیب موسوی




تیرہ بختی کی بلا سے یوں نکلنا چاہیے
جس طرح سلجھا کے زلفوں کو الگ شانہ ہوا

حبیب موسوی




یہ ثابت ہے کہ مطلق کا تعین ہو نہیں سکتا
وہ سالک ہی نہیں جو چل کے تا دیر و حرم ٹھہرے

حبیب موسوی