EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یوں آتی ہیں اب میرے تنفس کی صدائیں
جس طرح سے دیتا ہے کوئی نوحہ گر آواز

حبیب موسوی




زباں پر ترا نام جب آ گیا
تو گرتے کو دیکھا سنبھلتے ہوئے

حبیب موسوی




آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے

حبیب جالب




چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے
ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا

حبیب جالب




دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

حبیب جالب




دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں
دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل

حبیب جالب




دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

حبیب جالب