تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے
میں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہے
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
رخ روشن سے یوں اٹھی نقاب آہستہ آہستہ
کہ جیسے ہو طلوع آفتاب آہستہ آہستہ
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
قدردانی کی کیفیت معلوم
عیب کیا ہے اگر ہنر نہ ہوا
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
نشان منزل جاناں ملے ملے نہ ملے
مزے کی چیز ہے یہ ذوق جستجو میرا
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے
جسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلے
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
نہ وہ پوچھتے ہیں نہ کہتا ہوں میں
رہی جاتی ہے دل کی دل میں ہوس
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
مرے تو دل میں وہی شوق ہے جو پہلے تھا
کچھ آپ ہی کی طبیعت بدل گئی ہوگی
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
میرا مقصد کہ وہ خوش ہوں مری خاموشی سے
ان کو اندیشہ کہ یہ بھی کوئی فریاد نہ ہو
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
محنت ہو مصیبت ہو ستم ہو تو مزا ہے
ملنا ترا آساں ہے طلب گار بہت ہیں
وحشتؔ رضا علی کلکتوی

