پتا نہیں یہ تمنائے قرب کب جاگی
مجھے تو صرف اسے سوچنے کی عادت تھی
شارق کیفی
منزلوں پر ہم ملیں یہ طے ہوا
واپسی میں ساتھ پکا کر لیا
شارق کیفی
میں کسی دوسرے پہلو سے اسے کیوں سوچوں
یوں بھی اچھا ہے وہ جیسا نظر آتا ہے مجھے
شارق کیفی
لرزتے کانپتے ہاتھوں سے بوڑھا
چلم میں پھر کوئی دکھ بھر رہا تھا
شارق کیفی
کیا ملا دشت میں آ کر ترے دیوانے کو
گھر کے جیسا ہی اگر جاگنا سونا ہے یہاں
شارق کیفی
کس طرح آئے ہیں اس پہلی ملاقات تلک
اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی
شارق کیفی
کس احساس جرم کی سب کرتے ہیں توقع
اک کردار کیا تھا جس میں قاتل تھا میں
شارق کیفی
خواب ویسے تو اک عنایت ہے
آنکھ کھل جائے تو مصیبت ہے
شارق کیفی
کون تھا وہ جس نے یہ حال کیا ہے میرا
کس کو اتنی آسانی سے حاصل تھا میں
شارق کیفی

