EN हिंदी
ثروت حسین شیاری | شیح شیری

ثروت حسین شیر

33 شیر

ملنا اور بچھڑ جانا کسی رستے پر
اک یہی قصہ آدمیوں کے ساتھ رہا

ثروت حسین




صبح کے شہر میں اک شور ہے شادابی کا
گل دیوار، ذرا بوسہ نما ہو جانا

ثروت حسین




سورما جس کے کناروں سے پلٹ آتے ہیں
میں نے کشتی کو اتارا ہے اسی پانی میں

ثروت حسین




تیری آشفتہ مزاجی اے دل
کیا خبر کون نگر لے جائے

ثروت حسین




عمر کا کوہ گراں اور شب و روز مرے
یہ وہ پتھر ہے جو کٹتا نہیں آسانی سے

ثروت حسین




یہ انتہائے مسرت کا شہر ہے ثروتؔ
یہاں تو ہر در و دیوار اک سمندر ہے

ثروت حسین




یہ جو روشنی ہے کلام میں کہ برس رہی ہے تمام میں
مجھے صبر نے یہ ثمر دیا مجھے ضبط نے یہ ہنر دیا

ثروت حسین




یہ کون اترا پئے گشت اپنی مسند سے
اور انتظام مکان و سرا بدلنے لگا

ثروت حسین




آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بام
یہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر

ثروت حسین