کہتے تو ہو یوں کہتے یوں کہتے جو وہ آتا
یہ کہنے کی باتیں ہیں کچھ بھی نہ کہا جاتا
میر تقی میر
کہا میں نے گل کا ہے کتنا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
میر تقی میر
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
میر تقی میر
کام تھے عشق میں بہت پر میرؔ
ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے
میر تقی میر
کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سے
آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے
میر تقی میر
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
میر تقی میر
عشق معشوق عشق عاشق ہے
یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
both lover and beloved be
love's self-involved entirely
میر تقی میر
عشق کرتے ہیں اس پری رو سے
میرؔ صاحب بھی کیا دوانے ہیں
he is in love with that angel face
what a crazy person is this mii
میر تقی میر
عشق کا گھر ہے میرؔ سے آباد
ایسے پھر خانماں خراب کہاں
love's abode has been by miir inhabited
???
میر تقی میر

