EN हिंदी
مظہر امام شیاری | شیح شیری

مظہر امام شیر

24 شیر

کہا یہ سب نے کہ جو وار تھے اسی پر تھے
مگر یہ کیا کہ بدن چور چور میرا تھا

مظہر امام




جب ہم تیرا نام نہ لیں گے
وہ بھی ایک زمانا ہوگا

مظہر امام




ہمیں وہ ہمیں سے جدا کر گیا
بڑا ظلم اس مہربانی میں تھا

مظہر امام




آپ کو میرے تعارف کی ضرورت کیا ہے
میں وہی ہوں کہ جسے آپ نے چاہا تھا کبھی

مظہر امام




ہیں چناروں کے چہرے بھی جھلسے ہوئے
زخم سب کا ہرا ہے ترے شہر میں

مظہر امام




ایک میں نے ہی اگائے نہیں خوابوں کے گلاب
تو بھی اس جرم میں شامل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

مظہر امام




ایک درد جدائی کا غم کیا کریں
کس مرض کی دوا ہے ترے شہر میں

مظہر امام




دوستوں سے ملاقات کی شام ہے
یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

مظہر امام




چلو ہم بھی وفا سے باز آئے
محبت کوئی مجبوری نہیں ہے

مظہر امام