EN हिंदी
انجم عرفانی شیاری | شیح شیری

انجم عرفانی شیر

23 شیر

مری نظر میں آ گیا ہے جب سے اک صحیفہ رخ
کشش رہی نہ دل میں اب کسی کتاب کے لیے

انجم عرفانی




لوٹ کر یقیناً میں ایک روز آؤں گا
پلکوں پہ چراغوں کا اہتمام کر لینا

انجم عرفانی




لمحہ لمحہ میں ہوا جاتا ہوں ریزہ ریزہ
وجہ کچھ مجھ سے نہ پوچھو مرے رب سے پوچھو

انجم عرفانی




آبادیوں میں کیسے درندے گھس آئے ہیں
مقتل گلی گلی ہے ہر اک گھر لہو لہو

انجم عرفانی




کیا عجب ہے کہ یہ مٹھی میں ہماری آ جائے
آسماں کی طرف اک بار اچھل کر دیکھیں

انجم عرفانی




کوئی پرانا خط کچھ بھولی بسری یاد
زخموں پر وہ لمحے مرہم ہوتے ہیں

انجم عرفانی




اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح
پھول پھینکا بھی مری سمت تو پتھر کی طرح

انجم عرفانی




ہر چہرہ ہر رنگ میں آنے لگتا ہے
پیش نظر یادوں کے البم ہوتے ہیں

انجم عرفانی




ہم فنا نصیبوں کو اور کچھ نہیں آتا
خوں شراب کر لینا جسم جام کر لینا

انجم عرفانی