EN हिंदी
احمد فراز شیاری | شیح شیری

احمد فراز شیر

167 شیر

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا

احمد فراز




ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو

احمد فراز




ہم اگر منزلیں نہ بن پائے
منزلوں تک کا راستا ہو جائیں

احمد فراز




ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے

احمد فراز




ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

احمد فراز




ہم ترے شوق میں یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں
جیسے بچے کسی تہوار میں گم ہو جائیں

احمد فراز




ہمیں بھی عرض تمنا کا ڈھب نہیں آتا
مزاج یار بھی سادہ ہے کیا کیا جائے

احمد فراز




ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا
یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے

احمد فراز




ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

احمد فراز