کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھے
یاد کرنے کے لیے عمر پڑی ہو جیسے
احمد فراز
کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسے
تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا
احمد فراز
کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں
کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے
احمد فراز
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
احمد فراز
لے اڑا پھر کوئی خیال ہمیں
ساقیا ساقیا سنبھال ہمیں
احمد فراز
لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر
احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا
احمد فراز
میں بھی پلکوں پہ سجا لوں گا لہو کی بوندیں
تم بھی پا بستہ زنجیر حنا ہو جانا
احمد فراز
میں خود کو بھول چکا تھا مگر جہاں والے
اداس چھوڑ گئے آئینہ دکھا کے مجھے
احمد فراز
میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی
ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے
احمد فراز

