EN हिंदी
صدام شیاری | شیح شیری

صدام

44 شیر

سب ستارے دلاسہ دیتے ہیں
چاند راتوں کو چیختا ہے بہت

آلوک مشرا




آس کیا اب تو امید ناامیدی بھی نہیں
کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے

امیر اللہ تسلیم




ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل
اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا

آزاد انصاری




ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

بشیر بدر




خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے
بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

بشیر بدر




کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

فیض احمد فیض




نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں

فیض احمد فیض