EN हिंदी
صدام شیاری | شیح شیری

صدام

44 شیر

میں ہوں دل ہے تنہائی ہے
تم بھی ہوتے اچھا ہوتا

my loneliness my heart and me
would be nice

فراق گورکھپوری




شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

فراق گورکھپوری




یہ شکر ہے کہ مرے پاس تیرا غم تو رہا
وگرنہ زندگی بھر کو رلا دیا ہوتا

گلزار




آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیا
شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ

ادریس بابر




مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے
کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے

افتخار نسیم




غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس
سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے

خمارؔ بارہ بنکوی




دیکھتے ہیں بے نیازانہ گزر سکتے نہیں
کتنے جیتے اس لیے ہوں گے کہ مر سکتے نہیں

محبوب خزاں