EN हिंदी
نگاہ شیاری | شیح شیری

نگاہ

51 شیر

ان مست نگاہوں نے خود اپنا بھرم کھولا
انکار کے پردے میں اقرار نظر آئے

مہیش چندر نقش




بات تیری سنی نہیں میں نے
دھیان میرا تری نظر پر تھا

منظور عارف




کب ان آنکھوں کا سامنا نہ ہوا
تیر جن کا کبھی خطا نہ ہوا

مبارک عظیم آبادی




شکست توبہ کی تمہید ہے تری توبہ
زباں پہ توبہ مبارکؔ نگاہ ساغر پر

مبارک عظیم آبادی




لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا

مظفر وارثی




کوئی کس طرح راز الفت چھپائے
نگاہیں ملیں اور قدم ڈگمگائے

نخشب جارچوی




سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں
کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا

ندا فاضلی