EN हिंदी
انتر شیاری | شیح شیری

انتر

93 شیر

ہمیں بھی آج ہی کرنا تھا انتظار اس کا
اسے بھی آج ہی سب وعدے بھول جانے تھے

آشفتہ چنگیزی




کبھی تو دیر و حرم سے تو آئے گا واپس
میں مے کدے میں ترا انتظار کر لوں گا

عبد الحمید عدم




بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا

ادا جعفری




میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

احمد ندیم قاسمی




تھک گئے ہم کرتے کرتے انتظار
اک قیامت ان کا آنا ہو گیا

اختر شیرانی




باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

Why did you bid me leave from paradise for now
My work is yet unfinished here so you wil have to wait

علامہ اقبال




مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

agreed I am not worthy of your vision divine
behold my zeal, my passion see how I wait and pine

علامہ اقبال