EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاج
عمر بھر کے رنج و غم یاد آ گئے

احسان دانش




اور کچھ دیر ستارو ٹھہرو
اس کا وعدہ ہے ضرور آئے گا

احسان دانش




بجز اس کے احسانؔ کو کیا سمجھئے
بہاروں میں کھویا ہوا اک شرابی

احسان دانش




بلا سے کچھ ہو ہم احسانؔ اپنی خو نہ چھوڑیں گے
ہمیشہ بے وفاؤں سے ملیں گے باوفا ہو کر

احسان دانش




دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن
اس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا

احسان دانش




دل کی شگفتگی کے ساتھ راحت مے کدہ گئی
فرصت مے کشی تو ہے حسرت مے کشی نہیں

احسان دانش




احسانؔ اپنا کوئی برے وقت کا نہیں
احباب بے وفا ہیں خدا بے نیاز ہے

احسان دانش