EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وو آدمی نہیں ہے مکمل بیان ہے
ماتھے پہ اس کے چوٹ کا گہرا نشان ہے

دشینتؔ کمار




یہاں تک آتے آتے سوکھ جاتی ہے کئی ندیاں
مجھے معلوم ہے پانی کہاں ٹھہرا ہوا ہوگا

دشینتؔ کمار




یہ لوگ ہومو ہون میں یقین رکھتے ہیں
چلو یہاں سے چلیں ہاتھ جل نہ جائے کہیں

دشینتؔ کمار




یہ سارا جسم جھک کر بوجھ سے دہرا ہوا ہوگا
میں سجدے میں نہیں تھا آپ کو دھوکا ہوا ہوگا

دشینتؔ کمار




یہ سوچ کر کہ درختوں میں چھاؤں ہوتی ہے
یہاں ببول کے سائے میں آ کے بیٹھ گئے

دشینتؔ کمار




زندگی جب عذاب ہوتی ہے
عاشقی کامیاب ہوتی ہے

دشینتؔ کمار




اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصد
اب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہے

احسن علی خاں