EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

لہو لہان نظاروں کا ذکر آیا تو
شریف لوگ اٹھے دور جا کے بیٹھ گئے

دشینتؔ کمار




میں جسے اوڑھتا بچھاتا ہوں
وہ غزل آپ کو سناتا ہوں

دشینتؔ کمار




نہ ہو قمیض تو پاؤں سے پیٹ ڈھک لیں گے
یہ لوگ کتنے مناسب ہیں اس سفر کے لیے

دشینتؔ کمار




نظر نواز نظارہ بدل نہ جائے کہیں
ذرا سی بات ہے منہ سے نکل نہ جائے کہیں

دشینتؔ کمار




صرف ہنگامہ کھڑا کرنا مرا مقصد نہیں
میری کوشش ہے کہ یہ صورت بدلنی چاہئے

دشینتؔ کمار




ترا نظام ہے سل دے زبان شاعر کو
یہ احتیاط ضروری ہے اس بحر کے لیے

دشینتؔ کمار




تمہارے پاؤں کے نیچے کوئی زمین نہیں
کمال یہ ہے کہ پھر بھی تمہیں یقین نہیں

دشینتؔ کمار