EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہیں کھیل اے داغؔ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

داغؔ دہلوی




نگہ نکلی نہ دل کی چور زلف عنبریں نکلی
ادھر لا ہاتھ مٹھی کھول یہ چوری یہیں نکلی

داغؔ دہلوی




پھر گیا جب سے کوئی آ کے ہمارے در تک
گھر کے باہر ہی پڑے رہتے ہیں گھر چھوڑ دیا

داغؔ دہلوی




پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے

داغؔ دہلوی




پھرتا ہے میرے دل میں کوئی حرف مدعا
قاصد سے کہہ دو اور نہ جائے ذرا سی دیر

داغؔ دہلوی




پوچھئے مے کشوں سے لطف شراب
یہ مزا پاکباز کیا جانیں

داغؔ دہلوی




قتل کی سن کے خبر عید منائی میں نے
آج جس سے مجھے ملنا تھا گلے مل آیا

داغؔ دہلوی