میں سسکتا رہ گیا اور مر گئے فرہاد و قیس
کیا انہی دونوں کے حصے میں قضا تھی میں نہ تھا
بہادر شاہ ظفر
مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج
عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے
بہادر شاہ ظفر
محنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کو
بے کاوش سینہ نہ کبھی ناموری دی
بہادر شاہ ظفر
میرے سرخ لہو سے چمکی کتنے ہاتھوں میں مہندی
شہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگوں نے
بہادر شاہ ظفر
نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا
بہادر شاہ ظفر
نہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھا
وہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا
بہادر شاہ ظفر
نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال
نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں
بہادر شاہ ظفر

