EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سخت پستاں ترے چبھے دل میں
اپنے ہاتھوں سے میں خراب ہوا

ولی عزلت




سیا ہے زخم بلبل گل نے خار اور بوئیگلشن سے
سوئی تاگا ہمارے چاک دل کا ہے کہاں دیکھیں

ولی عزلت




تلخ لگتا ہے اسے شہر کی بستی کا سواد
ذوق ہے جس کو بیاباں کے نکل جانے کا

ولی عزلت




تلخ لگتا ہے اسے شہر کی بستی کا سواد
ذوق ہے جس کو بیاباں کے نکل جانے کا

ولی عزلت




تری وحشت کی صرصر سے اڑا جوں پات آندھی کا
مرا دل ہاتھ سے کھویا تو تیرے ہاتھ کیا آیا

ولی عزلت




تری زلف کی شب کا بیدار میں ہوں
تجھ آنکھوں کے ساغر کا مے خوار میں ہوں

ولی عزلت




تری زلف کی شب کا بیدار میں ہوں
تجھ آنکھوں کے ساغر کا مے خوار میں ہوں

ولی عزلت