EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ
نماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخ

ولی عزلت




جس پر نظر پڑے اسے خود سے نکالنا
روشن دلوں کا کام ہے مانند آئینہ

ولی عزلت




جس پر نظر پڑے اسے خود سے نکالنا
روشن دلوں کا کام ہے مانند آئینہ

ولی عزلت




جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت
جز اپنی دھول اڑانا اور ویرانے سے کیا نسبت

ولی عزلت




جو ہم یہ طفلوں کے سنگ جفا کے مارے ہیں
بتوں کا شکوہ نہیں ہم خدا کے مارے ہیں

ولی عزلت




جو ہم یہ طفلوں کے سنگ جفا کے مارے ہیں
بتوں کا شکوہ نہیں ہم خدا کے مارے ہیں

ولی عزلت




کہا جو میں نے گیا خط سے ہائے تیرا حسن
تو ہنس کے مجھ کو کہا پشم سے گیا تو گیا

ولی عزلت