EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس زمانے میں بزرگی سفلگی کا نام ہے
جس کی ٹکیا میں پھرے انگلی سو ہو جاوے ترا

ولی عزلت




عشق گورے حسن کا عاشق کے دل کو دے جلا
سانولوں کے عاشقوں کا دل ہے کالا کوئلہ

ولی عزلت




جا کر فنا کے اس طرف آسودہ میں ہوا
میں عالم عدم میں بھی دیکھا مزہ نہ تھا

ولی عزلت




جا کر فنا کے اس طرف آسودہ میں ہوا
میں عالم عدم میں بھی دیکھا مزہ نہ تھا

ولی عزلت




جاوے تھی جاسوسئ مجنوں کو تا راحت نہ لے
ورنہ کب لیلیٰ کو تھا صحرا میں جانے کا دماغ

ولی عزلت




جلد مر گئے تری حسرت سیتی ہم
کہ ترا دیر کا آنا نہ گیا

ولی عزلت




جلد مر گئے تری حسرت سیتی ہم
کہ ترا دیر کا آنا نہ گیا

ولی عزلت