ساحل سے سنا کرتے ہیں لہروں کی کہانی
یہ ٹھہرے ہوئے لوگ بغاوت نہیں کرتے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سہل کیا بار امانت کا اٹھانا ہے فلک
میں سنبھلتا ہوں مرے ساتھ سنبھلتی ہے زمیں
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سمندر آسماں اس پر ستاروں کا سفینہ
مرا مہتاب غم ہے بیکرانی دیکھنے میں
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شام کے تیر سے زخمی ہے خورشیدؔ کا سینہ
نور سمٹ کر سرخ کبوتر بن جاتا ہے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شہر بے آب ہوا جاتا ہے
اپنی آنکھوں میں بچا لوں پانی
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شہر جب خود کفیل ہے صاحب
کون کس کا ملال کرتا ہے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سسکتی آرزو کا درد ہوں فٹ پاتھ جیسا ہوں
کہ مجھ میں چھٹپٹاتا شہر کلکتہ بھی رہتا ہے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

