EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سلگتی پیاس نے کر لی ہے مورچہ بندی
اسی خطا پہ سمندر خلاف رہتا ہے

خورشید اکبر




وہ ایک آئنہ چہرے کی بات کرتا ہے
وہ ایک آئنہ پتھر سے ہے زیادہ کیا

خورشید اکبر




یہاں تو رسم ہے زندوں کو دفن کرنے کی
کسی بھی قبر سے مردہ کہاں نکلتا ہے

خورشید اکبر




یہ کیسا شہر ہے میں کس عجائب گھر میں رہتا ہوں
میں کس کی آنکھ کا پانی ہوں کس پتھر میں رہتا ہوں

خورشید اکبر




یہ میرا خاکداں رکھا ہوا ہے
اسی میں آسماں رکھا ہوا ہے

خورشید اکبر




زندگی! تجھ کو مگر شرم نہیں آتی کیا
کیسی کیسی تری تصویر نکل آئی ہے

خورشید اکبر




آخر کو ہنس پڑیں گے کسی ایک بات پر
رونا تمام عمر کا بے کار جائے گا

خورشید رضوی