مل گئے تھے ایک بار اس کے جو میرے لب سے لب
عمر بھر ہونٹوں پہ اپنے میں زباں پھیرا کیے
جرأت قلندر بخش
مجھ کو ہوا یہ خاک نشینی سے فائدہ
تھا دل کے آئنے پہ جو کچھ رنگ اڑ گیا
جرأت قلندر بخش
مجھ مست کو کیوں بھائے نہ وہ سانولی صورت
جی دوڑے ہے میکش کا غذائے نمکیں پر
جرأت قلندر بخش
نہ ہے اب خاک افشانی نہ حیرانی نہ عریانی
جنوں گر آ گیا تو لے کے سب سامان آوے گا
جرأت قلندر بخش
ناصح بہت بہ فکر رفو تھا پہ جوں حباب
مطلق نہ اس کے ہاتھ مرا پیرہن لگا
جرأت قلندر بخش
ناصح مرے رونے کا نہ مانع ہو کہ عاشق
گر یہ نہ کرے کام تو پھر کام کرے کیا
جرأت قلندر بخش
نہیں تل دھرنے کی جاگہ جو بہ افزونیٔ حسن
دیکھا شب اس کو تو اک خال بہ رخسار نہ تھا
جرأت قلندر بخش

