EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

قہر تھیں در پردہ شب مجلس میں اس کی شوخیاں
لے گیا دل سب کے وہ اور سب سے شرماتا رہا

جرأت قلندر بخش




رہے قفس ہی میں ہم اور چمن میں پھر پھر کر
ہزار مرتبہ موسم بہار کا پہنچا

جرأت قلندر بخش




رکھے ہے لذت بوسہ سے مجھ کو گر محروم
تو اپنے تو بھی نہ ہونٹوں تلک زباں پہنچا

جرأت قلندر بخش




روؤں تو خوش ہو کے پیے ہے وہ مے
سمجھے ہے موسم اسے برسات کا

جرأت قلندر بخش




روز و شب کوئی تمہارے دھیان میں مصروف ہے
کچھ تمہیں بھی دھیان ہے پیارے کسی کے دھیان کا

جرأت قلندر بخش




سبھی انعام نت پاتے ہیں اے شیریں دہن تجھ سے
کبھو تو ایک بوسے سے ہمارا منہ بھی میٹھا کر

جرأت قلندر بخش




سر دیجے راہ عشق میں پر منہ نہ موڑیے
پتھر کی سی لکیر ہے یہ کوہکن کی بات

جرأت قلندر بخش