قہر تھیں در پردہ شب مجلس میں اس کی شوخیاں
لے گیا دل سب کے وہ اور سب سے شرماتا رہا
جرأت قلندر بخش
رہے قفس ہی میں ہم اور چمن میں پھر پھر کر
ہزار مرتبہ موسم بہار کا پہنچا
جرأت قلندر بخش
رکھے ہے لذت بوسہ سے مجھ کو گر محروم
تو اپنے تو بھی نہ ہونٹوں تلک زباں پہنچا
جرأت قلندر بخش
روؤں تو خوش ہو کے پیے ہے وہ مے
سمجھے ہے موسم اسے برسات کا
جرأت قلندر بخش
روز و شب کوئی تمہارے دھیان میں مصروف ہے
کچھ تمہیں بھی دھیان ہے پیارے کسی کے دھیان کا
جرأت قلندر بخش
سبھی انعام نت پاتے ہیں اے شیریں دہن تجھ سے
کبھو تو ایک بوسے سے ہمارا منہ بھی میٹھا کر
جرأت قلندر بخش
سر دیجے راہ عشق میں پر منہ نہ موڑیے
پتھر کی سی لکیر ہے یہ کوہکن کی بات
جرأت قلندر بخش

