EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کر لیتا ہوں بند آنکھیں میں دیوار سے لگ کر
بیٹھے ہے کسی سے جو کوئی پیار سے لگ کر

جرأت قلندر بخش




کھائے سو پچھتائے اور پچھتائے وہ بھی جو نہ کھائے
یہ غم عشق بتاں لڈو ہے گویا بور کا

جرأت قلندر بخش




خلل اک پڑ گیا ناحق گل و بلبل کی صحبت میں
عبث کھولا تھا تو نے باغ میں اے گل بدن اپنا

جرأت قلندر بخش




خوبان جہاں کی ہے ترے حسن سے خوبی
تو خوب نہ ہوتا تو کوئی خوب نہ ہوتا

جرأت قلندر بخش




کی بے زری فلک نے حوالے نجیب کے
پاجی ہر ایک صاحب زر آئے ہے نظر

جرأت قلندر بخش




کشت دل فوج غم نے کی تاراج
تس پہ تو مانگنے خراج آیا

جرأت قلندر بخش




کیا کیا کیا ہے کوچہ بہ کوچہ مجھے خراب
خانہ خراب ہو دل خانہ خراب کا

جرأت قلندر بخش