EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نو گرفتار محبت ہوں مری وضع سے تم
اتنا گھبراؤ نہ پیارے میں سنبھل جاؤں گا

جرأت قلندر بخش




پیام اب وہ نہیں بھیجتا زبانی بھی
کہ جس کی ہونٹوں میں لیتے تھے ہم زباں ہر روز

جرأت قلندر بخش




پیچھے پیچھے مرے چلنے سے رکو مت صاحب
کوئی پوچھے گا تو کہیو یہ ہے نوکر میرا

جرأت قلندر بخش




پوچھی جو اس سے میں دل صد چاک کی خبر
الجھا کے اپنی زلف وہ شانے سے اٹھ گیا

جرأت قلندر بخش




پوچھو نہ کچھ سبب مرے حال تباہ کا
الفت کا یہ ثمر ہے نتیجہ ہے چاہ کا

جرأت قلندر بخش




قائم رہے کیا عمارت دل
بنیاد میں تو پڑا ہے ڈھہنا

جرأت قلندر بخش




قفس میں ہم صفیرو کچھ تو مجھ سے بات کر جاؤ
بھلا میں بھی کبھی تو رہنے والا تھا گلستاں کا

جرأت قلندر بخش