نو گرفتار محبت ہوں مری وضع سے تم
اتنا گھبراؤ نہ پیارے میں سنبھل جاؤں گا
جرأت قلندر بخش
پیام اب وہ نہیں بھیجتا زبانی بھی
کہ جس کی ہونٹوں میں لیتے تھے ہم زباں ہر روز
جرأت قلندر بخش
پیچھے پیچھے مرے چلنے سے رکو مت صاحب
کوئی پوچھے گا تو کہیو یہ ہے نوکر میرا
جرأت قلندر بخش
پوچھی جو اس سے میں دل صد چاک کی خبر
الجھا کے اپنی زلف وہ شانے سے اٹھ گیا
جرأت قلندر بخش
پوچھو نہ کچھ سبب مرے حال تباہ کا
الفت کا یہ ثمر ہے نتیجہ ہے چاہ کا
جرأت قلندر بخش
قائم رہے کیا عمارت دل
بنیاد میں تو پڑا ہے ڈھہنا
جرأت قلندر بخش
قفس میں ہم صفیرو کچھ تو مجھ سے بات کر جاؤ
بھلا میں بھی کبھی تو رہنے والا تھا گلستاں کا
جرأت قلندر بخش

