EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شاگرد رشید آپ سا ہوں شیخ جی صاحب
کچھ علم و عمل تم نے نہ شیطان میں چھوڑا

جرأت قلندر بخش




شاید اسی کا ذکر ہو یارو میں اس لیے
سنتا ہوں گوش دل سے ہر اک مرد و زن کی بات

جرأت قلندر بخش




شب خواب میں جو اس کے دہن سے دہن لگا
کھلتے ہی آنکھ کانپنے سارا بدن لگا

جرأت قلندر بخش




شیخ جی ہم تو ہیں ناداں پر اسے آنے دو
ہم بھی پوچھیں گے ہوئی آپ کی دانائی کیا

جرأت قلندر بخش




سیکھئے جرأتؔ کسی سے کوئی بازی کوئی کھیل
اس بہانے سے کوئی واں ہم کو لے تو جائے گا

جرأت قلندر بخش




سن وصف دہن دیجئے کچھ منہ سے پیارے
مجھ شاعر مفلس کی ہے گزران صلے پر

جرأت قلندر بخش




تا فلک لے گئی بیتابیٔ دل تب بولے
حضرت عشق کہ پہلا ہے یہ زینا اپنا

جرأت قلندر بخش