EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو دن چڑھا تو ہمیں نیند کی ضرورت تھی
سحر کی آس میں ہم لوگ رات بھر جاگے

جاوید انور




کوئی کہانی کوئی واقعہ سنا تو سہی
اگر ہنسا نہیں سکتا مجھے رلا تو سہی

جاوید انور




نکل گلاب کی مٹھی سے اور خوشبو بن
میں بھاگتا ہوں ترے پیچھے اور تو جگنو بن

جاوید انور




شام پیاری شام اس پر بھی کوئی در کھول دے
شاخ پر بیٹھی ہوئی ہے ایک بے گھر فاختہ

جاوید انور




تجھے میں غور سے دیکھوں میں تجھ سے پیار کروں
اے میرے بت تو مرے بت کدوں سے باہر آ

جاوید انور




لہو کا حال ہے جاویدؔ ایسا جیسے نشہ ہو
دھڑکنا دل میں بھی باد صبا کے ساتھ بھی رہنا

جاوید احمد




آگہی سے ملی ہے تنہائی
آ مری جان مجھ کو دھوکا دے

جاوید اختر