EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیا




اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے
بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں

جون ایلیا




اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا
میں بھی گویا اسی کو بھول گیا

جون ایلیا




اس سے ہر دم معاملہ ہے مگر
درمیاں کوئی سلسلہ ہی نہیں

جون ایلیا




وفا اخلاص قربانی محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

جون ایلیا




وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا
آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے

جون ایلیا




یاد آتے ہیں معجزے اپنے
اور اس کے بدن کا جادو بھی

جون ایلیا