EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پھر اس گلی سے اپنا گزر چاہتا ہے دل
اب اس گلی کو کون سی بستی سے لاؤں میں

جون ایلیا




پوچھ نہ وصل کا حساب حال ہے اب بہت خراب
رشتۂ جسم و جاں کے بیچ جسم حرام ہو گیا

جون ایلیا




رائیگاں وصل میں بھی وقت ہوا
پر ہوا خوب رائیگاں جاناں

جون ایلیا




رکھو دیر و حرم کو اب مقفل
کئی پاگل یہاں سے بھاگ نکلے

جون ایلیا




رہن سرشاریٔ فضا کے ہیں
آج کے بعد ہم ہوا کے ہیں

جون ایلیا




رویا ہوں تو اپنے دوستوں میں
پر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہوں

جون ایلیا




ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں
اور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیں

جون ایلیا