EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مجھ کو معلوم ہے میری خاطر
کہیں اک جال بنا رکھا ہے

جمال احسانی




قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا
وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا

جمال احسانی




قرار جی کو مرے جس کے نام سے آیا
وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا

جمال احسانی




صبح آتا ہوں یہاں اور شام ہو جانے کے بعد
لوٹ جاتا ہوں میں گھر ناکام ہو جانے کے بعد

جمال احسانی




سنتے ہیں اس نے ڈھونڈ لیا اور کوئی گھر
اب تک جو آنکھ تھی ترے در پر لگی ہوئی

جمال احسانی




تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

جمال احسانی




ترے نہ آنے سے دل بھی نہیں دکھا شاید
وگرنہ کیا میں سر شام سونے والا تھا

جمال احسانی