ہو کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں
ہم تو سنتے تھے کہ زنجیر گراں بولتی ہے
عرفانؔ صدیقی
عشق کیا کار ہوس بھی کوئی آسان نہیں
خیر سے پہلے اسی کام کے قابل ہو جاؤ
عرفانؔ صدیقی
جان ہم کار محبت کا صلہ چاہتے تھے
دل سادہ کوئی مزدور ہے اجرت کیسی
عرفانؔ صدیقی
جانے کیا ٹھان کے اٹھتا ہوں نکلنے کے لیے
جانے کیا سوچ کے دروازے سے لوٹ آتا ہوں
عرفانؔ صدیقی
جسم کی رعنائیوں تک خواہشوں کی بھیڑ ہے
یہ تماشا ختم ہو جائے تو گھر جائیں گے لوگ
عرفانؔ صدیقی
جو کچھ ہوا وہ کیسے ہوا جانتا ہوں میں
جو کچھ نہیں ہوا وہ بتا کیوں نہیں ہوا
عرفانؔ صدیقی
جو تیر بوڑھوں کی فریاد تک نہیں سنتے
تو ان کے سامنے بچوں کا مسکرانا کیا
عرفانؔ صدیقی

